audio audioduration (s) 0.62 30.2 | text stringlengths 3 408 |
|---|---|
عرب میں ہم مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا چکے ہیں | |
مسلمان عورت شراب اور دولت سے اندہ ہو جاتا ہے | |
مسلمان کو مارنے کا بہترین طریقہ ہی یہی ہے کہ اسے مسلمانوں کے ہاتھ ہمارواؤ | |
مسلمانوں کو ذہنی آیاشی کا سامان مہیا کر دو | |
تو وہ اپنے دین اور ایمان سے دستبردار ہو جاتے ہیں | |
تم مسلمانوں کا ایمان آسانی سے خرید سکتے ہو | |
اس نے عرب کے کئی عمرہ اور وزرہ کی مثالیں دیں | |
جنہیں سلیمیوں نے عورت شراب اور دولت سے خرید لیا تھا | |
اور انہیں اپنا درپردہ دوست بنا لیا تھا | |
کچھ دیر مسلمانوں کی کمزوریوں کا متعلق باتیں ہوئیں | |
پھر لڑکیوں کو آزاد کرانے کے عملی پہلوں پر غور ہوا | |
آخر یہ تیپ آیا کہ بیس نہایت دلیر آدمی | |
اس کام کے لیے روانہ کیا جائیں اور وہ اگلی شام تک روانہ ہو جائیں | |
اسی وقت چار پانچ کمانڈروں کو بلائی گیا | |
انہیں اصل مقصد اور مہم بتا کر کہا گیا | |
ایک کمانڈر نے کہا | |
آپ یہ سن کر حیران ہوں گے ایک کمانڈر نے کہا کہ ہماری فوج میں ایسے سپاہی بھی ہیں جنہیں ہم نے جیل خانوں سے حاصل کیا ہے | |
یہ ڈاکو چور اور رازن تھے انہیں بڑی بڑی لمبی سزائیں دی گئی تھی انہیں جیل خانوں میں مرنا ہی تھا | |
ہم نے ان سے بات کی تو وہ جوش و خروش میں فوج میں آ گئے ہیں | |
آپ کو شاید یہ معلوم کر کے بھی حیرت ہو کہ ناکام حملے میں ان سزا یفتہ مجرموں نے بڑی بہادری سے کئی جہاز بچائے ہیں | |
میں لڑکیوں کو مسلمانوں سے آزاد کرنے کی مہم میں ایسے تین آدمی بھیجوں گا | |
موریخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں احشو اشرت کا رجحان بڑھ گیا اور اتحاد ختم ہو رہا تھا | |
عیسائیوں نے مسلمانوں کو اخلاقی تباہی تک پہنچانے میں ذہنی آیاشی کا ہر سامان مہیا کیا | |
اب انہیں یہ توقع تھی کہ مسلمانوں کو ایک ہی حملے میں ختم کر دیں گے | |
چنانچہ ان کے خلاف عیسائی دنیا میں نفرت کی توفانی مہم چلائی گئی | |
اور ہر کسی کو اسلام کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی | |
اس کے جواب میں معاشرے کے ہر شعبے کے لوگ | |
سلیبی لشکر میں شامل ہونے لگے | |
ان میں پادری بھی شامل ہوئے | |
اور آدھی مجرم بھی گناہوں سے توبہ کر کے | |
مسلمانوں کے خلاف مسلح ہو گئے | |
بعض ملکوں کے جیل خانوں میں | |
جو مجرم لمبی قید کی سزائیں بھگت رہے تھے | |
وہ بھی فوج میں بھرتی ہو گئے | |
ان مجرموں کے مطالعے کسائیوں کا تجربہ | |
غالباً اچھا تھا جس کے پیش نظر ایک کمانڈر نے لڑکیوں کو آزاد کرانے اور صلاح الدین کو قتل کرنے کے لیے قیدی مجرموں کا انتخاب کیا تھا | |
صبح تک بیس انتہائی دلیر اور ذہین آدمی چن لیے گئے | |
ان میں میگنا نامی ریوز بھی تھا جسے روم کے جیل خانے سے لائے گیا تھا | |
اس جاسوس کو جو ڈاکٹر کے بحروب میں سلطان ایوبی کے کیمپ میں رہا اور فرار ہو کر آیا تھا | |
اس کمانڈو پارٹی کا کمانڈر اور گائیڈ مقرر کیا گیا | |
اس پارٹی کو یہ مشن دیا گیا کہ لڑکیوں کو مسلمانوں کی خید سے نکالنا ہے | |
اگر رابن اور اس کے چار ساتھیوں کو بھی آزاد کرائے جا سکے | |
تو کرا لینا ورنہ ان کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں | |
دوسرا مشن یہ تھا کہ صلاح الدین کو قتل کیا جائے | |
اس پارٹی کو کوئی عملی ٹریننگ نہ دی گئی | |
صرف زبانی ہدایات اور ضروری ہتھیار دے کر | |
اسی روز ایک بادبانی کشتی میں ماہی گیروں کے بیس میں روانہ کر دیا گیا | |
جس وقت یہ کشتی اٹلی کے ساحل سے روانہ ہوئی | |
سلاہ الدین ایوبی سردانیوں کی بغاوت کو مکمل طور پر دبا چکے تھے | |
سردانیوں کے بہت سے کمانڈر مارے گئے یا زخمی ہو گئے تھے | |
اور بہت سے سلطان ایوبی کے دفتر کے سامنے کھڑے تھے | |
انہوں نے ہتھیار ڈال کر شکست اور سلطان ایوبی کی عطاعت قبول کر لی تھی | |
وہ سلطان کے حکم کے منتظر تھے | |
سلطان اندر بیٹھے اپنے سالاروں وغیرہ کو احکام دے رہے تھے | |
علی بن سفیان بھی وہی موجود تھا | |
اس فتح میں اس کا بہت عمل دخل تھا | |
سلیبیوں کو شکست دینے میں بھی اس کے نظام جاسوسی نے بہت کام کیا تھا | |
بلکہ یہ دونوں کامیابیاں جاسوسی کے نظام کی ہی کامیابیاں تھی | |
سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آ گیا | |
انہوں نے علی بن سفیان سے کہا | |
علی ہمیں ان جاسوس لڑکیوں اور ان کے ساتھیوں کے مطالق سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا | |
وہ ابھی تک ساحل پر قیدی کیمپ میں ہیں | |
ان سب کو فوراں یہاں لانے کا بندوبست کرو اور تیخانے میں ڈال دو | |
میں ابھی پیغام دیتا ہوں | |
علی بن سفیان نے کہا | |
ان سب کو یہاں پہرے میں بلوا لیتا ہوں | |
سلطان آپ شاید ساتویں لڑکی کو بھول گئے ہیں | |
وہ سودانیوں کے ایک کماندار بالیان کے پاس تھی | |
اس لڑکی سے جاسوسیوں اور بغاوت کا انکشاف ہوا تھا | |
میں دیکھ رہا ہوں کہ باسیان ان کمانداروں میں سے نہیں ہے جو باہر موجود ہیں | |
اور وہ زخمیوں میں بھی نہیں ہے | |
بلکہ مرے ہوئے بھی میں تک سکا ہوں | |
وہاں بھی وہ موجود نہیں | |
مجھے شک ہے کہ ساتویں لڑکی جس کا نام فخر المصری نے مو بھی بتایا ہے | |
بالیان کے ساتھ کہیں روپوش ہو گئی ہے | |
اپنا شک رفع کرو علی | |
سلطان ایوبی نے کہا | |
یہاں مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں | |
بالیاں لا بتا ہے تو بہرہ روم کی طرف نکل گیا ہوگا | |
سلیبیوں کے سوا اسے کون پناہ دے سکتا ہے | |
بہرحال ان جاسوسوں کو تہخانوں میں ڈالو | |
اور اپنے جاسوس فوراں تیار کر کے سمندر پار بھیج دو | |
زیادہ ضروری تو یہ ہے کہ اپنے جاسوس اپنے ہی ملک میں پھیلا دیے جائیں | |
یہ مشورہ دینے والا سلطان نور الدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج کا سالار تھا | |
اس نے کہا ہمیں سلیبیوں کے طرف سے اتنا خطرہ نہیں جتنا اپنے مسلمان امارہ سے ہیں | |
اپنے جاسوس ان کے حرموں میں داخل کر دیے جائیں تو بہت سی سازشیں بے نقاب ہو جائیں گی | |
اس نے تفصیل سے بتایا کہ یہ خود ساختہ حکمران کس طرح سلیبیوں کے ہاتھوں میں کھل رہے ہیں | |
سلطان زنگی رحمت اللہ علیہ اکثر پریشان رہتے ہیں | |
کہ باہر کے حملوں کو روکیں یا اپنے گھر کو اپنی ہی چراغ سے جلنے سے بچائیں | |
صلاح الدین ایوبی نے یہ رویداد غور سے سنی اور کہا | |
اگر تم لوگ جن کے پاس ہتھیار ہیں دیاندار اور اپنے مذہب سے مخلص رہے | |
تو باہر حملے اور اندر کی سازشیں قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی | |
تم اپنی نظر سرحدوں سے دور آگے لے جاؤ | |
سلطنت اسلامیہ کی کوئی سرحد نہیں | |
تم نے جس روز اپنے آپ کو اور خدا کے اس عظیم مذہب اسلام کو سرحدوں میں پابند کر لیا | |
اس روز سے یوں سمجھو کہ تم اپنے ہی قید خینے میں قید ہو جاؤ گے | |
پھر تمہاری سرحدیں سکڑنے لگیں گی | |
اپنی نظریں بہرے روم سے آگے لے جاؤ | |
سمندر تمہارا رستہ نہیں روک سکتے | |
گھر کے چراغوں سے نہ ڈرو |
End of preview. Expand in Data Studio
README.md exists but content is empty.
- Downloads last month
- 8